نیویارک،15نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )جرائم کی عالمی عدالت (آئی سی سی)کی طرف سے کی جانے والی ایک ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی فوج کے ارکان اور امریکی خفیہ ادارہ ( سی آئی اے)افغانستان میں 2003اور 2004کے دوران حراست میں لیے جانے والے افراد سے تفتیش کے دوران مبینہ طور پر ظالمانہ اور پر تشدد طریقہ کار روا رکھتے ہوئے بظاہر ممکنہ جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔پیر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق آئی سی سی کی مستغیث فتو بن سیوڈا نے کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں، افغان سرکاری فورسز اور امریکی فوجیوں اور سی آئی اے ان سب نے بظاہر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فورسز کے اہلکاروں نے بظاہر 61افراد کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا اور ایسا زیادہ تر 2003اور 2004کے دوران ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی عرصے کے دوارن سی آئی اے نے افغانستان، پولینڈ، رومانیہ اور لتھوینیا میں خفیہ حراستی مراکز میں بند کم ازکم 27افراد پر تشدد کیا۔اس معاملے پر امریکی حکومت کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنا نہیں آیا ہے۔تاہم فتو بن سوڈا نے کہا کہ وہ فوری طور پر اس بات کا فیصلہ کریں گی کی آیا اس معاملے کی ایک جامع تحقیقات شروع کرنے کے لیے اجازت طلب کی جائے یا نہیں۔اگرچہ امریکہ جرائم کی بین الاقومی عدالت کا رکن نہیں ہے تاہم اس کے خلاف افغانستان جیسے دیگر رکن ممالک میں امریکی شہریوں کی طرف سے کیے جانے والے مبینہ جرائم کے معاملے پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔